کاغذی کرنسی اور افراط زر مکمل تحریر
کاغذی کرنسی اور افراط زر سراج الدین فلاحی 04/12/2016 متعلقہ مضامین صنفی عدل: اسلامی نقطۂ نظر سے 15/02/2018 اتحاد بین المسلمین کی ضرورت واہمیت 15/02/2018 سراج الدین فلاحی 8 نومبر کی شب وزیراعظم مودی نے 500 اور 1000 روپیے کے نوٹوں کو جیسے ہی غیر قانونی ہونے کا اعلان کیا اس سے ایک بار پھر کاغذی کرنسی کی خامیاں ظاہر ہو گئیں. دراصل دور حاضر میں دنیا کے تمام ممالک کے مالیاتی نظام کی بنیاد کاغذی کرنسی ہے جس کی اپنی کوئی قیمت نہیں ہے اور نہ ہی اس کی پشت پر کوئی حقیقی اثاثہ ہے اس لیے یہ مسئلہ موجودہ مالیاتی نظام کے اہم ترین مسائل میں ایک ہے. چونکہ کاغذی کرنسی کے ذریعے لین دین کو قانونی جبر کے ذریعے نافذ کیا جاتا ہے اس لیے اس سے عوام کا استحصال آسان ہو گیا ہے. اس کرنسی کی ادائیگی حقیقت میں قرض کو منتقل کرنا ہوتا ہے جس کا ضامن مرکزی بینک ہوتا ہے اور حکومت اس کی پشت پناہی کرتی ہے. اب ہم یہ سمجھتے کی کوشش کرتے ہیں کہ کاغذی کرنسی کے معیشت پر کیا نقصانات ہیں کاغذی کرنسی کی سب سے بڑی خامی افراط زر (inflation ) کی شکل میں برآمد ہوتی ہے. جب معیشت میں حکومت کا مالی خسارہ ب...